سام آلٹمین چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی کو کسی حیاتیاتی وبا کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اس انٹرویو کے دوران انہوں نے مختلف موضوعات پر بات کی تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اے آئی کے حوالے سے کیا چیز انہیں فکرمند رکھتی ہے۔
تو سام آلٹمین نے کہا کہ انہیں فکر ہے کہ یہ ماڈلز بائیولوجی میں بہت اچھے ہوچکے ہیں اور انہیں کسی وبا کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘آپ کو علم ہونا چاہیے کہ انہیں کووڈ جیسی وبا کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، میں اس کے لیے فکرمند رہتا ہوں، مگر چونکہ ہم اس حوالے سے فکرمند ہیں، تو میرے خیال میں ہم اور انڈسٹری کے دیگر افراد اس کی روک تھام کے لیے کافی سوچ بچار کر رہے ہیں’۔
اس سے عندیہ ملتا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کتنا ایڈوانس ہوچکا ہے۔
جب حال ہی میں اوپن اے آئی نے جی پی ٹی 5 کو متعارف کرایا تو کمپنی نے تفصیل سے بتایا تھا کہ کس طرح بائیولوجی کے حوالے سے مختلف تہوں پر مشتمل حفاظتی میکنزم کو اس کا حصہ بنایا گیا۔
انسانی رویوں پر چیٹ جی پی ٹی کے اثرات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ مضحکہ خیز مثال محسوس ہوگی مگر حال ہی میں ہمیں اس کا سامنا ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘لارج لینگوئج ماڈلز جیسا ہمارا اور دیگر لینگوئج ماڈلز ہیں، ان کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے، وہ ایک مخصوص ردہم میں بات کرتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ حقیقی انسان بھی اس طرح کا انداز اپنانے لگے ہیں’۔
سام آلٹمین نے کہا کہ ویسے تو یہ کوئی خاص مسئلہ نہیں مگر یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح ہم اے آئی ٹیکنالوجی ہم پر اثر انداز ہو رہی ہے۔