موجودہ عہد کے افراد اپنا زیادہ تر وقت کرسیوں پر بیٹھ کر گزارتے ہیں۔
اس سست طرز زندگی سے نہ صرف ہم کاہل بن رہے ہیں بلکہ یہ صحت اور شخصیت دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔
درحقیقت اگر بیشتر افراد نے اس طرز زندگی کو برقرار رکھا تو 25 سال بعد وہ کیسے نظر آئیں گے، یہ آپ کو دنگ کر دے گا۔
قدموں کو ٹریک کرنے والی ایک ایپ وی وارڈ نے یہ تخیل پیش کیا ہے کہ اگر زیادہ وقت بیٹھنے کی عادت میں تبدیلی نہ آئی تو ہم 2050 میں کیسے نظر آئیں گے۔
اس مقصد کے لیے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کیا گیا۔
اس تخیل میں موجود فرد کو سام کا نام دیا گیا ہے جو بتاتا ہے کہ جسم کو متحرک نہ رکھنے سے جسمانی شخصیت اور مجموعی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

وی وارڈ نے عالمی ادارہ صحت، سی ڈی سی اور دیگر ذرائع کے ڈیٹا کو استعمال کرکے اسے چیٹ جی پی ٹی پروموٹ میں فیڈ کیا۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سام دیکھنے میں کسی طرح اچھا نظر نہیں آتا۔
وی وارڈ نے انتباہ کیا کہ عالمی سطح پر لوگ سست طرز زندگی گزارنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کچھ عرصے قبل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 80 فیصد نوجوان جسمانی سرگرمیوں کے طے شدہ دورانیے کو پورا نہیں کرپاتے۔
وی وارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ عہد میں جہاں کھانا آن لائن آرڈر کیا جاتا ہے، دفتری میٹنگز فونز یا کمپیوٹرز پر ہوتی ہے، کرسی پر بیٹھے بیٹھے دوستوں سے بات کرتے ہیں، جبکہ گھنٹوں سوشل میڈیا پر اسکرولنگ وغیرہ کے باعث ہم بہت اپنا بہت زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔

زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے فالج، امراض قلب، کینسر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وی وارڈ کے مطابق اگر الفاظ آپ کو ڈراتے نہیں تو سام کی تصویر ضرور ایسا کرسکتی ہے، کیونکہ کوئی بھی فرد اس کی طرح نظر آنا پسند نہیں کرے گا۔
سام کے سست طرز زندگی نے اس کے جسمانی وزن کو بڑھایا، جبکہ فون پر مسلسل اسکرولنگ سے توند نکل آئی، کمر جھک گئی کیونکہ وہ زیادہ وقت آگے کی جانب جھک کر فون استعمال کرتا تھا۔
اس سے ہٹ کر بالوں سے محرومی، کندھوں یا گردن میں تکلیف، جوڑوں کے مسائل، پیر سوج جانا اور دیگر مسائل کا بھی اسے سامنا ہوا۔