کیا آپ ہائی بلڈ پریشر کی سب سے عام علامت کے بارے میں جانتے ہیں؟

کسی سانحے کا انتظار مت کریں اور اپنے بلڈ پریشر کو اکثر چیک کرایا کریں۔

مگر ایسا کیوں کرنا چاہیے؟ کیونکہ بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے سے سنگین پیچیدگیوں جیسے فالج، ہارٹ اٹیک یا ہارٹ فیلیئر سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

امریکا کے ماؤنٹ سینائی ہاسپٹل کے امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر ایوان لیوین کے مطابق کیا آپ ہائی بلڈ پریشر کی سب سے عام علامت کے بارے میں جانتے ہیں؟

انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بلڈ پریشر کی علامات کے بارے میں بتایا جن میں سے ایک اس کی سب سے عام علامت بھی ہے۔

مگر سب سے عام علامات سے قبل ان نشانیوں کو جان لیں جن کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر کی عام ترین علامات میں شدید سردرد، بینائی دھندلانا، سانس لینے میں مشکلات وہ بھی آرام کرتے ہوئے، سینے میں تکلیف جو اس وقت محسوس ہو جب آپ چل رہے ہوں اور ناک سے خون بہنا شامل ہیں۔

اسی طرح ایک اور علامت جھاگ دار پیشاب ہوتا ہے کیونکہ بلڈ پریشر بڑھنے پر پیشاب کے ذریعے پروٹینز کا اخراج زیادہ ہونے لگتا ہے۔

تو سب سے عام علامت کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ ہائی بلڈ پریشر کی سب سے عام علامت یہ ہے کہ آپ میں کوئی علامات ہی ظاہر نہ ہوں اور اسی وجہ سے اس مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہی وجہ ہے کہ 35 سال کی عمر کے بعد ہر سال کم از کم ایک بار بلڈ پریشر ضرور چیک کرانا چاہیے۔

صحت مند افراد کا بلڈ پریشر کتنا ہوتا ہے؟

بلڈ پریشر کے جانچنے کے 2 پیمانے ہیں، ایک خون کا انقباضی دباؤ (systolic blood pressure) جو کہ اوپری دباؤ کے نمبر کا اظہار کرتا ہے۔

انقباضی دباؤ بنیادی طور پر دل کے دھڑکنے سے جسم کے مختلف اعضا تک پہنچنے والے خون کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسرا پیمانہ انبساطی دباؤ (diastolic blood pressure) ہے جو انسانی دھڑکنوں کے درمیان وقفے اور آرام کے نمبر ظاہر کرتا ہے۔

تو یہ جان لیں کہ صحت مند افراد کا بلڈ پریشر 120/80 ہونا چاہیے۔

اگر کسی فرد کا بلڈ پریشر 130/80 ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں ہائی بلڈ پریشر کی بیماری کا آغاز ہو رہا ہے۔

اسی طرح اگر بلڈ پریشر 140/90 ہو تو یہ ہائی بلڈ پریشر کے سنگین مرحلے کی جانب بڑھنے کا عندیہ ہے۔

یہ نمبر انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ انقباضی دباؤ میں ہر 20 یا انبساطی دباؤ میں 10 نمبروں کے اضافے سے کسی فرد کے ہارٹ اٹیک یا فالج سے موت کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں