اگر آپ پاکستان میں موٹر وے یا کسی بڑی ہائی وے پر سفر کریں تو وہاں مختلف سائن بورڈ بھی نظر آئیں گے جو مختلف علاقوں کی سمت اور فاصلے کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ان سائن بورڈز کے لیے نیلے یا سبز رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے مگر صرف ان مخصوص رنگوں کو ہی کیوں استعمال کیا جاتا ہے؟
ان سائن بورڈز میں بتایا جاتا ہے کہ آپ کس ہائی وے پر موجود ہیں، باہر نکلنے کا راستہ کس طرف ہے، اپنی منزل سے کتنی کلومیٹر دور ہیں اور کن مقامات سے گزر رہے ہیں۔
تو جہاں تک ان کے سبز یا نیلے رنگ کی بات ہے تو اس کے پیچھے چھپی وجہ کافی دلچسپ ہے یا یوں کہہ لیں کہ سادہ ہے۔
20 ویں صدی میں متعدد ممالک نے روڈ سیفٹی سے متعلق قوانین کو یکجا کرنے پر کام شروع کیا اور 1968 میں ویانا کنونشن آن روڈ ٹریفک کو عالمی سطح پر اپنایا گیا۔
اس کنونشن میں طے کیا گیا تھا کہ کس سڑک کو ہائی وے قرار دیا جائے، حادثات پر کیسے ردعمل ظاہر کیا جائے گا جبکہ سڑک پر موجود ٹریفک کے درمیان حفاظتی فاصلے وغیرہ کا تعین کیا گیا۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ ہائی ویز کے ٹریفک سائن بورڈز کے رنگوں کا تعین بھی کیا گیا۔
ممالک کو نیلے اور سبز رنگوں میں سے کسی ایک کو اپنانے کا آپشن دیا گیا۔
تو دنیا بھر میں ممالک نے (چاہے کنونشن کا حصہ بنے یا نہیں) ہائی ویز کے ٹریفک سائن بورڈز کے لیے سبز اور نیلے رنگوں کا استعمال شروع کرلیا۔
مثال کے طور پر جرمنی، فرانس، پرتگال، اسپین اور پولینڈ وغیرہ میں نیلے سائن بورڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔
امریکا، فن لینڈ، سویڈن، یونان، ترکیہ اور سوئٹزر لینڈ میں سبز سائن بورڈز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں یہ دونوں رنگ ہی مختلف ہائی ویز پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
صرف ان 2 رنگوں کے استعمال کی وجہ بھی سادہ ہے، ان کو آسانی سے دیکھنا اور پڑھنا ممکن ہے۔
ہماری بینائی ان دونوں رنگوں کو آسانی سے پراسیس کرلیتی ہے اور ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان رنگوں کے سائن بورڈز کی رنگت آسانی سے ماند نہیں پڑتی۔