شکر قندی دنیا کے متعدد حصوں میں عام دستیاب ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی لوگ اسے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔
یہ فائبر، پوٹاشیم، وٹامنز اور دیگر اہم غذائی اجزا کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے۔
اسے دنیا کے مختلف حصوں میں میٹھے آلو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسے کھانا کسی فرد کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔
غذائی اجزا کا حصول
124 گرام شکر قندی میں 98.7 گرام پانی موجود ہوتا ہے جبکہ 108 کیلوریز، 2 گرام پروٹین، 3 گرام چکنائی، 18.7 گرام کاربوہائیڈریٹس، 2.48 گرام فائبر، 0.7 ملی گرام آئرن، 50.8 ملی گرام کیلشیئم، 19.8 ملی گرام میگنیشم، 50.8 گرام فاسفورس، 259 ملی گرام پوٹاشیم، 306 ملی گرام سوڈیم، 0.9 ملی گرام Selenium سمیت وٹامن سی، فولیٹ، کولین، وٹامن اے، بیٹا کیروٹین، وٹامن Kاور کولیسٹرول جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں۔
انسولین کی حساسیت بہتر کرے
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ شکر قندی سے ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے۔
اس میں موجود فائبر بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق فائبر کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
124 گرام شکر قندی سے ڈھائی گرام فائبر کا حصول ممکن ہے۔
بلڈ پریشر کو صحت رکھنے کے لیے بھی مفید
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ نمک والی غذاؤں کے استعمال سے گریز کریں اور پوٹاشیم سے بھرپور غذا کو ترجیح دیں۔
گرام شکر قندی میں 256 ملی گرام پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو دن بھر کے لیے درکار مقدار کے 5 فیصد حصے کے برابر ہے۔
پوٹاشیم دل کی شریانوں کو صحت مند رکھنے کے لیے اہم جز ہے جس سے بلڈ پریشر کی سطح مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
کینسر کا خطرہ کم کرے
شکر قندی بیٹا کیروٹین کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے، یہ نباتاتی مرکب جسم میں طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔
بیٹا کیروٹین میں ایک پرو وٹامن بھی ہوتا ہے جو جسم میں جاکر وٹامن اے میں بدل جاتا ہے۔
بیٹا کیروٹین سے خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام میں مدد ملتی ہے اور اگر اس کی روک تھام نہ کی جائے تو مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اینٹی آکسائیڈنٹس سے متعدد اقسام کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
نظام ہاضمہ کو بہتر اور قبض کی روک تھام کرے
شکر قندی میں موجود فائبر سے قبض کی روک تھام ہوتی ہے اور ہاضمہ کے افعال صحت مند ہوتے ہیں۔
مختلف تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غذائی فائبر کا استعمال آنتوں کے کینسر کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔
بینائی کا تحفظ
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ شکر قندی میں موجود بیٹا کیروٹین جسم میں جاکر وٹامن اے میں بدل جاتا ہے، یہ وٹامن بینائی کی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔
ایک شکر قندی سے بہت زیادہ مقدار میں وٹامن اے جسم کو ملتا ہے، یہ وٹامن ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور جسم کو متعدد امراض سے بچاتا ہے۔
مدافعتی نظام مضبوط کرے
124 گرام شکر قندی میں 12.8 ملی گرام وٹامن سی ہوتا ہے۔
یہ وٹامن مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتا ہے اور جسم میں آئرن جذب ہونے کے عمل کو بہتر کرتا ہے۔
وٹامن سی کی کمی سے خون کی کمی کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جبکہ عام موسمی بیماریوں کا زیادہ سامنا ہونے لگتا ہے۔
بلڈ شوگر کی سطح بہتر بنائے
3 کلینیکل ٹرائلز پر مبنی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں شکر قندی کو کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
البتہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کو معتدل مقدار میں شکر قندی کا استعمال کرنا چاہیے۔
ورم کی روک تھام
شکر قندی میں ایک غذائی جز کولین موجود ہوتا ہے جو مسلز کی حرکت اور یادداشت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے جبکہ اعصابی نظام کی معاونت بھی کرتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کولین کی زیادہ مقدار کا استعمال دمہ کے مریضوں میں ورم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
دل کی صحت بہتر بنائے
شکر قندی میں موجود فائبر نامی جز دل کی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔
فائبر سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ فائبر سے جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے جس سے امراض قلب سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
جِلد کے لیے بھی مفید
شکر قندی میں موجود بیٹا کیروٹین نامی جز سے جِلد کی صحت کو متعدد طریقوں سے فائدہ ہوتا ہے۔
بیٹا کیروٹین جسم کے اندر اینٹی آکسائیڈنٹ کی طرح کام کرکے جِلدی خلیات کو تکسیدی تناؤ اور ماحولیاتی عناصر سے پہنچنے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اس طرح بیٹا کیروٹین سے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے اثرات گھٹ جاتے ہیں، جِلد کی لچک بہتر ہوتی ہے جبکہ جھریاں گھٹ جاتی ہیں۔
بیٹا کیروٹین جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے، یہ پروٹین خلیات کی نشوونما میں معاونت فراہم کرکے جِلد کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ورم کو کم کرتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔