عمر میں اضافے کے ساتھ جِلد کی لچک، نمی اور نرمی گھٹ جاتی ہے اور ہر فرد ہی چاہتا ہے کہ وہ اچھا نظر آئے۔
اس کے لیے جِلد کی صحت کے لیے بہترین عادات جیسے روزانہ سن اسکرین کے استعمال کے علاوہ غذا پر توجہ مرکوز کرنا بھی ضروری ہے۔
غذائی انتخاب قبل از وقت جھریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ جِلد کی جگمگاہٹ کو برقرار رکھتا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ عام دستیاب غذاؤں سے ہی آپ عمر میں اضافے کے باوجود جِلد کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔
کیوی فروٹ
اس پھل میں مالٹوں سے زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے اور یہ وٹامن جِلد کی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔
وٹامن سی ایسا طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو خلیات میں موجود مضر مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق وٹامن سی سے جِلد کو سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے تحفظ ملتا ہے جبکہ یہ کولیگن نامی پروٹین کی تیاری میں مدد فراہم کرتا ہے جبکہ جِلد کی نمی برقرار رکھتا ہے۔
کیوی فروٹ کے علاوہ امرود، مالٹوں، اسٹرابیری اور ترش پھلوں سے بھی وٹامن سی جسم کو ملتا ہے۔
پالک
سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں۔
ان سے جسم کو متعدد وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس ملتے ہیں جو جِلد کے لیے بہترین ہوتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق جو افراد ہر ہفتے 2 سے 3 بار سبز پتوں والی سبزیاں کھاتے ہیں، ان میں جِلد کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
دہی
دہی نہ صرف سے پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے بلکہ اس میں پروبائیوٹیکس بھی موجود ہوتے ہیں۔
پروبائیوٹیکس ایسے زندہ اور صحت کے لیے مفید بیکٹیریا کو کہا جاتا ہے جو ورم سے لڑتے ہیں۔
ورم جِلد کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے کیل مہاسوں اور دیگر مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔
پروبائیوٹیکس سے جِلد لٹکنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جبکہ جِلد کی نمی بڑھتی ہے۔
سبز چائے
ہموار جِلد کے لیے کافی کی جگہ سبز چائے کو دینا بہتر ہوتا ہے۔
سبز چائے میں پولی فینولز نامی اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو جِلد میں چکنائی کو کم کرتے ہیں اور کیل مہاسوں سے لڑتے ہیں۔
سبز چائے میں فلیونوئڈز نامی اینٹی آکسائیڈنٹس بھی ہوتے ہیں جو ڈی این اے کی مرمت کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ جِلد پر ابھرنے والی لکیروں کو کم کرتے ہیں۔
پانی پینا مت بھولیں
جِلد کی صحت مند جگمگاہٹ کو برقرار رکھنے کا ایک آسان ذریعہ پانی پینا ہے، خاص طور پر اگر آپ کو اکثر خشک جِلد کے مسائل کا سامنا ہوتا ہو۔
دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی پینا اور پانی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال اس حوالے سے بہترین ثابت ہوتا ہے۔
زیتون کا تیل
زیتون کے تیل کو غذا کا حصہ بنانے سے ورم کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔
زیتون کے تیل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس سے چنب اور دیگر جِلدی امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
مچھلی
چربی والی مچھلی میں ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو خلیات کی نشوونما اور جِلد کو نقصان پہنچانے والے مواد سے لڑتے ہیں۔
ویسے تو ہمارے جسم میں بھی یہ وٹامن جیسے یہ اجزا موجود ہوتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ان کی سطح گھٹ جاتی ہے تو مچھلی سے ان کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔
گاجر
یہ سبزی بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ جز جِلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
گاجریں میگنیشم کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے اور یہ منرل اعصاب اور مسلز کو پرسکون رکھتا ہے۔
جسم میں میگنیشم کی کمی سے ناقص نیند کا خطرہ بڑھتا ہے اور ناکافی نیند سے جِلد کی صحت متاثر ہوتی ہے۔
گریاں
وٹامن سی سے بھرپور غذائیں جیسے بادام اور مونگ پھلی وغیرہ جِلد کو ہر عمر میں جوان رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
وٹامن ای سے کولیگن پروٹین کی کمی سے بچنے میں مدد ملتی ہے اور یہ پروٹین صحت مند جِلد کے لیے اہم ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ وٹامن ای ایک اینٹی آکسائیڈنٹ کے طور پر کام کرکے خلیات کو نقصان پہنچانے والے مضر مادے سے بھی لڑتا ہے۔
السی کے بیج
یہ ننھے بیج alpha-linolenic ایسڈ سے بھرپور ہوتے ہیں جو اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی ایسی قسم ہے جو پودوں میں پائی جاتی ہے۔
اومیگا 3 ایسڈز ایسی چکنائی پر مشتمل ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مفید ہوتی ہے کیونکہ یہ سورج کی مضر شعاعوں، تمباکو نوشی اور آلودگی کے اثرات کو کم کرتی ہے۔
اس سے جِلد پر جھریاں گھٹ جاتی ہیں جبکہ جِلد کی نمی بہتر ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔