والد نے 900 کلومیٹر دور منتقل ہوکر بیٹی کو گھر کا ذائقہ فراہم کرنے کیلئے یونیورسٹی کے باہر فوڈ اسٹال کھول لیا

جب ایک بیٹی نے شکایت کی کہ اسے یونیورسٹی کے کھانے میں گھر کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا۔

تو باپ نے اپنی ملازمت چھوڑ کر لگ بھگ 900 کلومیٹر کا سفر کیا اور بیٹی کے لیے پوری زندگی کو تبدیل کر دیا۔

جی ہاں واقعی چینی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق لی بینگڈی صوبہ Jilin کے علاقے Siping میں واقع Jilin نارمل یونیورسٹی میں دوسرے سال کی طالبہ ہے۔

لگ بھگ ایک سال سے لی بینگڈی کی جانب سے شکایت کی جا رہی تھی کہ یونیورسٹی کی کینٹین میں ملنے والا کھانے میں صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا جبکہ اس میں گھر کا ذائقہ بھی موجود نہیں۔

بیٹی کے خدشات کو سن کر باپ نے Tianjin میں اپنی ملازمت کو چھوڑ دیا۔

یہ علاقہ Siping سے 900 کلومیٹر دور واقع ہے اور پھر جنوبی چین میں جاکر فرائیڈ رائس اور نوڈلز کو پکانا سیکھا۔

بعد ازاں اس شخص نے اپنی بیٹی کی یونیورسٹی کے داخلی دروازے کے قریب ایک فوڈ اسٹال کرائے پر لیا۔

اکتوبر 2025 کے وسط میں اس شخص (باپ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے اپنے نئے فوڈ بزنس کا آغاز کیا۔

پہلے دن اس نے کچھ مقدار میں فرائیڈ رائس کو فروخت کیا جس سے کچھ منافع ہوا۔

درحقیقت باپ کی آمدنی بیٹی کی آمدنی سے کم تھی جو طالبعلموں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے۔

اپنے والد کی اس کہانی کو لی بینگڈی نے یونیورسٹی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔

اس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ اس کے والد صاف غذا کی تیاری کو اہمیت دیتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا صارفین سے والد کے کاروبار کو بہتر بنانے کے لیے مشورہ طلب کیا۔

اگلے دن والد کے اسٹال میں لوگوں کا رش دیکھ کر وہ طالبہ حیران رہ گئی۔

حالیہ ہفتوں کے دوران بیٹی نے اپنا زیادہ تر فارغ وقت والد کی مدد کرتے ہوئے گزارا۔

لی بینگڈی کے مطابق کچھ روز قبل والد بیمار ہوگئے تھے مگر اب وہ کام میں مصروف ہیں۔

طالبہ نے بتایا کہ ‘میرے والد بہت زیادہ منافع نہیں چاہتے، وہ بس زندہ رہنے کے لیے کمانا چاہتے ہیں اور وہ یہاں صرف میرا خیال رکھنے کے لیے آئے ہیں’۔

لی بینگڈی نے بتایا کہ کچھ سال قبل والدہ کے انتقال کے بعد وہ اور والد ایک دوسرے پر انحصار کرنے لگے تھے۔

جب بیٹی کا داخلہ یونیورسٹی میں ہوا تو والد نے وعدہ کیا تھا کہ جو وہ چاہے گی وہ ویسا ہی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں