وزیراعلیٰ پنجاب کی زبان، الفاظ اور لہجہ بالکل مناسب نہیں: قمر زمان کائرہ

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زبان، الفاظ اور لہجہ بالکل مناسب نہیں، ان کے مکالمے کے جواب میں سندھ سے بھی ایسا جواب آیا تو کیا ہوگا؟

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھاکہ پاکستان طویل عرصے سے بہت سے بحرانوں کا شکار رہا، ہر دور میں ان بحرانوں سے نمٹنے کی کوشش کی گئی، اس وقت بھی ہم ایک مخصوص صورتحال کا شکار ہیں، حکومت بناتے وقت ہم نے نیک نیتی سے مسلم لیگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، یہ پہلی دفعہ ہوا کہ ہم نے بغیر وزارت لیے حکومت کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ چیزوں پر عمل ہوا، کچھ پر نہیں ہوا، ہم اپنا اعتراض کرتے رہے اور کرتے رہیں گے، ہم صورتحال کو نہ پہلے خراب کرنا چاہتے تھے نہ اب کرنا چاہتے ہیں، ہم نے حکومت کو ہر معاملے پر سپورٹ کیا، ہم کوئی احسان نہیں گنواتے، ہم طے کر کے چلے تھے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ پچھلے کچھ دنوں سے دو طرفہ مکالمہ شروع ہو گیا ہے، ساتھ دینے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ مسلم لیگ جو کرے گی ہم اس کا ساتھ دیں گے، ہم پاور شیئرنگ نہیں کررہے لیکن ہم انہیں سپورٹ کر رہے ہیں، مکالمہ ایسا لہجہ اختیار کرگیاکہ کچھ سوال اٹھائے گئے جن کا جواب دینا ضروری ہے، وہ لہجے اور وہ لفظ استعمال نہ کریں جو ماضی میں استعمال ہوتے رہے، غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن قیادت کو ان کو روکنا ہے۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھاکہ بلاول نے تحمل کے ساتھ چیزوں کو آگے لے کر چلنے کی کوشش کی ہے، ہم رائےدیتےہیں توآپ نہیں سنتے اورہم تنقید کرتے ہیں تو آپ سیخ پا ہو جاتے ہیں، حیرانی ہے سوال سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر اٹھایا گیا، بی آئی ایس پی کے ذریعے ابتدائی رقم دی جاتی ہے ، جب بھی کوئی قدرتی آفت آئی بی آئی ایس پی کے ذریعے متاثرین کورقم دی گئی۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ بجٹ میں آئی ایم ایف نے ہرشعبے سے سبسڈی ختم کرائی، بی آئی ایس پی واحد پروگرام ہے جس میں آئی ایم ایف نے 200 ارب روپے کا اضافہ کروایا، ہم تجویز دیتے ہیں تو آپ کہتے ہیں پنجاب پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، آپ کہتے ہیں پنجاب کی طرف جو انگلی اٹھے گی ہم توڑ دیں گے، آپ صرف وزیراعلیٰ پنجاب نہیں، آپ نواز شریف کی بیٹی ہیں، آپ کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ مسلم لیگ کے الفاظ ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، ہمیں سوال اٹھانے کا حق ہے، آپ سےگزارش ہےجو اختلاف جتنا ہو اسے اتنا ہی رکھاجائے، اگرسندھ سے بھی اسی طرح کی آوازیں اٹھیں توکیاہوگا؟ ہم نےسوال اٹھائے، آپ کہیں آپ کے سوال درست نہیں یہ ہے اس کا جواب ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں