ٹک ٹاک نے چند نئی اپ ڈیٹس متعارف کی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو پلیٹ فارم پر آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کو بہتر طور پر پہچاننے، سمجھنے اور اپنی پسند کے مطابق کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اے آئی کو اگر ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، دریافت کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور تحفظ میں اضافہ کر سکتی ہے۔
بیان کے مطابق نئی اپ ڈیٹس کمیونٹی کو زیادہ واضح معلومات اور مزید کنٹرول فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں تاکہ وہ اے آئی کے ساتھ تعلق کے بارے میں بہتر فیصلہ کر سکیں۔
ان میں سے ایک فیچر اے آئی سے تیار کردہ مواد کے لیے ہے۔
جلد ہی ٹک ٹاک منیج ٹاپکس میں اس فیچر کو آزمایا جائے گا۔
اس سیٹنگ کے ذریعے صارفین یہ طے کر سکیں گے کہ ان کی فار یو فیڈ میں اے آئی سے بنایا گیا مواد کس حد تک دکھائی دے۔
جو لوگ اے آئی ویڈیوز سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں، وہ اس طرح کے مواد کی مقدار بڑھا سکیں گے، جبکہ وہ صارفین جو ایسی ویڈیوز کم دیکھنا چاہتے ہیں، اسے کم کر سکیں گے۔
یہ کنٹرول ان ٹولز کا حصہ ہے جو صارفین کو مواد کی سفارشات کو ذاتی نوعیت کا بنانے اور اپنی پسندیدہ اشیا کو دریافت کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کی غرض سے ٹک ٹاک اپنے اے آئی لیبلنگ سسٹمز کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہلے ہی متعدد ایسے طریقے استعمال کرتا ہے، جن میں کرییٹرز کے لیبل، اے آئی ڈیٹیکشن ماڈلز اور C2PA Content Credentials شامل ہیں، تاکہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی نشاندہی کی جا سکے۔
اب تک 1.3 ارب سے زائد ایسی ویڈیوز کو لیبل کیا جا چکا ہے۔
مگر اب کمپنی نظر نہ آنے والی واٹر مارکنگ کے نام سے ایک نئے ٹول کو آزما رہی ہے۔
نظر نہ آنے والے واٹر مارکس صرف ٹک ٹاک کے سسٹمز ہی پڑھ سکیں گے اور اس طرح دوسروں کے لیے انہیں ہٹانا مشکل ہو جائے گا۔
یہ واٹر مارکس ایڈیٹنگ یا ری پوسٹنگ کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں، جس سے اے آئی لیبلنگ مزید قابلِ اعتماد اور پائیدار ہو جاتی ہے۔
آنے والے چند ہفتوں میں ٹک ٹاک اپنے ٹولز مثلاً اے آئی ایڈیٹر پرو کے ذریعے بنائے گئے اے آئی مواد اور C2PA Content Credentials کے ساتھ اپ لوڈ کیے گئے مواد میں نظر نہ آنے والے واٹر مارکس شامل کرنا شروع کرے گا۔
عالمی سطح پرٹک ٹاک اے آئی سے متعلق تعلیم میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 20 لاکھ ڈالر کا نیا اے آئی لٹریسی فنڈ قائم کیا ہے۔
یہ فنڈ غیر منافع بخش اداروں اور ماہرین کی معاونت کرے گا تاکہ وہ ایسا تعلیمی مواد تیار کریں جو لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے، اے آئی سے تیار کردہ مواد کو کیسے پہچانا جائے اور اے آئی کو محفوظ اور ذمہ داری کے ساتھ کس طرح استعمال کیا جائے۔