پہلی بار ایک زندہ انسان میں سؤر کے جگر کے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ

سائنسدانوں نے پہلی بار ایک زندہ انسان میں سؤر کا جگر لگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

چین میں ڈاکٹروں نے سؤر کا جینیاتی طور پر تدوین شدہ جگر ایک مریض میں ٹرانسپلانٹ کیا جو اس کے بعد 171 دن تک زندہ رہا۔

اس مریض کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کے بعد جگر 38 دن تک رہا تھا۔

سائنسدان پہلے ہی انسانوں میں سؤر کے دل اور گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے کامیاب آپریشن کرچکے ہیں جبکہ اگست میں پھیپھڑوں کی پیوندکاری کا تجربہ بھی کیا گیا۔

عام طور پر سؤر کے جگر کا ٹرانسپلانٹ دماغی طور پر مردہ قرار دیے گئے افراد میں کیا جاتا ہے، مگر یہ پہلی بار تھا جب ایک زندہ مریض میں ایسا کیا گیا۔

دل اور گردوں کے برعکس جن کے افعال محدود ہوتے ہیں، جگر کو سؤر کے عضو سے تبدیل کرنا کافی پیچیدہ عمل ہے کیونکہ یہ کافی بڑا ہوتا ہے اور یہ خون کی سپلائی سمیت متعدد افعال کے لیے اہم ہوتا ہے۔

جگر خون کو فلٹر کرتا ہے، زہریلے مواد اور کچرے کو خارج کرتا ہے، غذائی اجزا کو پراسیس کرتا ہے، نقصان دہ مرکبات سے جسم کو تحفظ فراہم کرتا ہے، خوراک ہضم کرنے کے لیے bile سیال تیار کرتا ہے، بلڈ کلاٹس میں مددگار پروٹینز تیار کرتا ہے جبکہ بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

2024 میں امریکی ماہرین نے پہلی بار سؤر کے تدوین شدہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ایک دماغی طور پر مردہ مریض کے جسم کے باہر کامیابی سے کیا تھا۔

اس آپریشن کے 72 گھنٹوں بعد بھی ورم کے آثار نظر نہیں آئے اور مریض کا جسم مستحکم رہا۔

اب نئی تحقیق میں بتایاگیا کہ اس طرح کے ٹرانسپلانٹ کے نتائج حوصلہ افزا ہیں جن سے جگر کے سنگین امراض کے شکار افراد کے علاج میں اس وقت تک مدد مل سکے گی جب تک انہیں کسی انسان کا جگر نہیں مل جاتا۔

چین کی Anhul میڈیکل یونیورسٹی کے فرسٹ ایفیلیٹڈ ہاسپٹل کے ڈاکٹروں کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سؤر کے جگر کا ٹرانسپلانٹ ایک 71 سالہ مریض کے جسم میں مئی 2024 میں کیا گیا۔

اس جگر میں 10 جینیاتی تبدیلیاں کی گئی تھیں تاکہ انسانی جسم کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کا امکان گھٹ جائے۔

ڈاکٹروں نے اس مریض کو ادویات بھی دی تھیں تاکہ مدافعتی نظام کو دبایا جاسکے اور جسم اس عضو کو مسترد نہ کرے۔

یہ شخص ہیپاٹائٹس بی سے جگر کو پہنچنے والے نقصان کے باعث اسپتال میں داخل ہوا تھا اور جگر کے افعال متاثر ہوئے تھے۔

اس کے جگر میں ایک بڑی رسولی بھی موجود تھی جس کا حجم گھٹانے کی کوششیں ناکام رہی تھیں۔

اس طرح کے اکثر کیسز میں ڈاکٹروں کی جانب سے جگر کے اس حصے کو کاٹ دیا جاتا ہے مگر اس تحقیق کے ماہرین کے مطابق اگر ایسا کیا جاتا تو مریض کا جگر اتنا چھوٹا ہو جاتا کہ میٹابولک ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں۔

لگ بھگ 3 ہفتوں تک اسپتال میں رہنے کے بعد مریض کو پیٹ میں شدید تکلیف کا سامنا ہوا اور ٹیسٹوں سے ثابت ہوا کہ رسولی جان کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

ڈاکٹروں نے مریض کے خاندان کے افراد کا معائنہ کیا تاکہ علم ہوسکے کہ ان کی جانب جگر کے ٹشو عطیہ کیے جاسکتے ہیں یا نہیں، مگر کوئی بھی درست میچ نہیں مل سکا۔

تو ڈاکٹروں کے پاس سؤر کے جگر کا ٹرانسپلانٹ واحد آپشن رہ گیا تھا، مریض اور اس کی بیٹی نے آپریشن کی اجازت دی۔

محققین کے مطابق ہم مریض اور اس کے خاندان کا احترام کرتے ہیں، مریض نے سائنس کے اس شعبے کے لیے معاونت فراہم کی۔

انہوں نے رسولی کو جسم سے کاٹ کر نکالا اور پھر سؤر کے جگر کا ٹرانسپلانٹ کیا جبکہ بائیں جانب انسانی جگر کا کچھ حصہ برقرار رہا۔

یہ ٹرانسپلانٹ آغاز میں کامیاب محسوس ہوا کیونکہ سؤر کا جگر فوراً سرخ ہوگیا اور نظام ہاضمہ کے لیے سیال بنانے لگا۔

پہلے دن ہی جگر کے دیگر افعال میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور ورم یا جسم کی جانب سے مسترد کیے جانے کی ابتدائی نشاناں سامنے نہیں آئیں۔

آپریشن کے 10 دن بعد بھی جسم نے سؤر کے جگر کو مسترد نہیں کیا جبکہ مریض کے اپنے جگر کی کارکردگی پہلے سے زیادہ بہتر ہوگئی۔

مگر آپریشن کے بعد 25 ویں دن مریض کے دل میں دباؤ کی علامات نظر آنے لگیں، جبکہ 28 اور 33 ویں دن ورم سے متعلق تبدیلیاں ٹیسٹوں میں سامنے آئیں۔

اس پر ڈاکٹروں نے مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والی کچھ ادویات کو تبدیل کیا مگر ایسی علامات موجود تھیں جن سے عندیہ ملتا تھا کہ ٹرانسپلانٹ میں مسائل ہیں۔

37 ویں دن مریض کا بلڈ پریشر گھٹ گیا جبکہ دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گئیں، وہ بار بار بے ہوش ہونے لگا، اس موقع اس کا اپنا جگر اتنا کام کرنے لگا تھا جو جسم کے لیے کافی تھا۔

تو ڈاکٹروں نے 38 ویں دن سؤر کے جگر کو جسم سے نکال دیا اور اس مریض کا اپنا جگر کام کرتا رہا۔

135 ویں دن مریض کے جسم کے اندر جریان خون ہونے لگا اور اسی کے باعث ٹرانسپلانٹ کے 171 دن بعد اس کا انتقال ہوا۔

محققین نے بتایا کہ اس تحقیق سے انہیں اس ٹرانسپلانٹ سے جڑے چیلنجز اور کامیابی سے متعلق کافی کچھ جاننے کا موقع ملا۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل آف Hepatology میں شائع ہوئے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل انسانی جسم میں سؤر کا دل لگانےکا تجربہ کیا گیا تھا جو پہلے تو کامیاب ہوا لیکن بعد ازاں مریض انتقال کر گئے تھے۔

ڈاکٹروں نے جنوری 2022 میں ایک 57 سالہ مریض میں کامیابی سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر کا دل لگایا تھا۔

57 سالہ ڈیوڈ بینیٹ دنیا کے پہلے انسان تھے جن میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سؤر کا دل لگایا گیا تھا، تاہم ڈیوڈ بینیٹ آپریشن کے 2 ماہ بعد انتقال کرگئے تھے۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے 58 سالہ امریکی مریض میں 20 ستمبر 2023 میں سؤر کے جینیاتی طور پر تدوین شدہ دل کی پیوندکاری کی تھی۔

لیکن آپریشن کے لگ بھگ 6 ہفتے بعد لارنس فیوکٹ نامی 58 سالہ مریض ہارٹ فیلیئر کے باعث چل بسا تھا۔

اسی طرح مارچ 2024 میں میساچوسٹس جنرل اسپتال نے ایک 62 سالہ شخص میں سؤر کا گردہ ٹرانسپلانٹ کیا تھا۔

اگست 2025 میں چین کی گوانگزو میڈیکل یونیورسٹی کے جانب سے پہلی بار ایک انسان میں سؤر کے پھیپھڑے لگانے کا تجربہ کیا گیا۔

ماہرین نے دماغی طور پر مردہ قرار دیے گئے ایک فرد میں سؤر کے جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے پھیپھڑے کو لگایا جو 9 دن تک کام کرتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں