کیا فون کو گھنٹوں مسلسل چارجنگ پر لگائے رکھنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟

کچھ سال پہلے تک اسمارٹ فون صارفین کو کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے فون کو رات بھر چارجنگ پر لگا کر نہ رکھیں ورنہ بیٹری کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مگر اب نئے اسمارٹ فونز کو اوور چارجنگ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے حفاظتی سسٹمز موجود ہوتے ہیں۔

مگر پھر بھی متعدد افراد یہ سوال پوچھتے ہیں کہ زیادہ وقت تک ڈیوائسز کو چارج کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے یا نہیں؟

اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ ایسا کرنے سے نقصان نہیں پہنچتا۔

درحقیقت ہر وقت فون کو بیٹری سے لگائے رکھنے سے بیٹری خراب نہیں ہوتی کیونکہ جدید اسمارٹ فونز اسمارٹ چارجنگ سسٹمز سے لیس ہوتے ہیں جو بیٹری فل ہونے پر بجلی کا استعمال روک دیتے ہیں، تاکہ ڈیوائس کو اوور چارجنگ سے نقصان نہ پہنچے۔

تو اگر آپ اپنے آئی فون یا اینڈرائیڈ فون کو گھنٹوں تک چارجنگ پر لگائے رکھتے ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مگر جب یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے بیٹری کو نقصان نہیں پہنچتا، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے ڈیوائس پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

بیٹریز وقت اور استعمال کے انداز سے تنزلی کا شکار ہوتی ہیں اور آپ کس طرح انہیں چارج کرتے ہیں، وہ بھی اس عمل کی رفتار پر کردار ادا کرتا ہے۔

اپنے فون کو ہمیشہ گھنٹوں چارجنگ پر لگائے رکھنے سے بیٹری کو اضافی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے خاص طور پر اگر حرارت بڑھ جائے، جو کہ بیٹری کی حقیقی دشمن ہے۔

بیٹری کی تنزلی کے پیچھے چھپی سائنس

بیٹری کی صحت کا تعین صرف اس بات پر نہیں ہوتا کہ آپ نے اپنے فون کو کتنی بار چارج کیا، بلکہ اس پر بھی ہوتا ہے کہ ڈیوائس کس طرح والٹیج، درجہ حرارت اور دیگر عوامل پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

لیتھیم بیٹریز کی عمر اس وقت تیزی سے ختم ہوتی ہیں جب وہ مکمل طور پر ختم ہو جائیں (0 فیصد) یا 100 فیصد چارج ہو جائیں۔

فون کو 100 فیصد ہونے کے بعد بھی گھنٹوں تک چارجنگ پر لگائے رکھنے سے اضافی والٹیج کا دباؤ فون کے اندرونی حصوں میں بڑھتا ہے۔

مگر سب سے بڑا خطرہ اوور چارجنگ نہیں بلکہ حرارت ہے۔

جب آپ کا فون مسلسل چارجنگ پر لگا رہتا ہے یا بہت زیادہ وسائل استعمال کرنے والی ایپس استعمال کرتا ہے تو حرارت پیدا ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے، جس سے بیٹری کے اندر کیمیائی نقصان کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

ایپل کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟

ایپل کی بیٹری گائیڈ میں اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لیتھیم بیٹریز کی گنجائش میں قدرتی طور پر وقت کے ساتھ کمی آتی ہے۔

اس عمل کی رفتار کو سست کرنے کے لیے آئی فونز میں آپٹیمائزڈ بیٹری چارجنگ کو استعمال کیا جاتا ہے جو صارف کے روزمرہ کے معمول کو سمجھتا ہے اور چارجنگ کو بیٹری 80 فیصد چارج ہونے پر روک دیتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ ڈیوائس کو زیادہ درجہ حرارت والے ماحول میں چارج نہ کیا جائے۔

اینڈرائیڈ کمپنیاں اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟

اینڈرائیڈ فونز میں بھی ایپل کی طرح بیٹری کے تحفظ کے لیے فیچرز موجود ہوتے ہیں۔

ان فیچرز کو جب ان ایبل کیا جاتا ہے تو ڈیوائسز 80 سے 85 فیصد سے زیدہ چارج نہیں ہوتیں تاکہ گھنٹوں چارج کرنے سے بیٹری پر دباؤ نہ بڑھے۔

تو کس وقت مسلسل چارجنگ سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟

تمام تر حفاظتی سسٹمز کے باوجود کچھ حالات میں بیٹری کو نقصان پہنچنے کا عمل تیز رفتار ہو جاتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ زیادہ حرارت بیٹری کی سب سے بڑی دشمن ہے اور اگر فون کو سورج کی روشنی، گاڑی یا تکیے کے نیچے رکھ کر چارج کیا جائے، تو اس سے بھی ڈیوائس کا اندرونی درجہ حرارت بڑھتا ہے۔

چارجنگ کے دوران فونز کے استعمال خاص طور پر گیمنگ یا ویڈیو ایڈیٹنگ سے بھی ڈیوائس کے اندر حرارت بڑھتی ہے اور بیٹری تنزی سے تنزلی کا شکار ہونے لگتی ہے۔

سستی اور غیر مستند چارجنگ کیبلز یا اڈاپٹرز کے استعمال سے بھی ایسا ہوتا ہے۔

تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

آپ کو اپنی عادات کو مکمل طور پر بدلنے کی ضرورت نہیں بس چند تبدیلیاں لانا کافی ہے۔

پہلے تو فون کے اندر موجود آپٹیمائزیشن ٹولز کو ٹرن آن کریں جو فون کو 100 فیصد چارج نہیں ہونے دیتے۔

فون کو چارجنگ کے دوران ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں اور غیر محفوظ جگہوں پر چارج نہ کریں۔

ہمیشہ معیاری کیبلز اور اڈاپٹرز کا استعمال کریں۔

کوشش کریں کہ فون کو ہر وقت گھنٹوں تک چارجر پر لگا نہ چھوڑیں اور اسے 20 سے 80 فیصد کے درمیان چارج کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں