ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) امیج جنریٹر جاری کیا ہے، جو اتنا متاثر کن ہے کہ حقیقی یا فرضی تصاویر کا فرق کرنا بہت مشکل ہے۔
شیڈریم 4.0 نامی یہ اے آئی ماڈل گوگل کے نئے امیج جنریٹر نانو بنانا سے بہت زیادہ بہتر ہے۔
ایک کمپنی Artificial Analysis کے مطابق سیڈ ریم 4.0 ٹیکسٹ ٹو امیج اور امیج ایڈیٹنگ کے شعبے میں گوگل جیمنائی 2.5 فلیش (نانو بنانا) سمیت دیگر سے بہتر ہے۔
یہ امیج جنریٹر ابھی اے آئی پلیٹ فارمز جیسے fal.ai، ریپلیکیٹ اور بائیٹ دانس میں دستیاب ہے۔
ابھی اس میں ایک ہزار تصاویر بنانے کی فیس 30 ڈالرز ہے۔
اس ٹول کی تیار کردہ تصاویر اتنی حقیقی ہوتی ہیں کہ یہ بتانا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے کہ یہ فرضی ہے یا نہیں۔
اس کی تیار کردہ چند تصاویر کو دیکھ کر آپ بھی یہ اندازہ لگاسکتے ہیں۔

یہ تصاویر سوشل میڈیا سائٹ ریڈیٹ پر ایک صارف نے شیئر کی تھیں۔
بائیٹ ڈانس کا دعویٰ ہے کہ سیڈ ریم 4.0 تصاویر بنانے اور ایڈیٹنگ میں جیمنائی 2.5 فلیش کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ نیا اے آئی امیج جنریٹر گزشتہ ماڈل کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تیز ہے۔
صارفین اس سے 4K ریزولوشن والی تصاویر تیار کروا سکتے ہیں۔
اسی طرح تحریری ہدایت پر تصاویر میں سے چیزوں کو ہٹایا جاسکتا ہے یا روشنی کو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔